بھٹکل:10/نومبر (ایس او نیوز) شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان ؒ دنیا کے سب سے زیادہ مذہبی رواداری کے حکمران تھے، انگریزوں کی پھوٹ ڈالو حکومت کروپالیسی والی تاریخ پر انحصار کرتے ہوئے ٹیپو سلطان پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں، جب کہ انگریزوں کی تاریخ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ان باتوں کا اظہار سیرت شہید ٹیپو سلطان ؒ کے مصنف مولانا محمد الیاس جاکٹی ندوی نے کیا۔
وہ یہاں جمعرات کو تربیت ایجوکیشن سوسائٹی کے نیو شمس اسکول میں منعقدہ ’’ حضرت ٹیپو سلطان ؒ لائف اینڈ مشن ‘‘ کے عنوان پربطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ ٹیپو سلطان پر 70ہزار کورگی عوام کے تبدیلی مذہب اور مندروں کو ڈھانے کے الزامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مولانا نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا کہ یہ سب حقیقت سے دور کی باتیں ہیں۔ مولانا نے پلٹ وار کرتے ہوئے ٹیپو پر اعتراض کرنے والوں سے سوال کیا کہ اگر کورگ کے ہندوؤں کو قتل کیاگیا ہے تو پھر میسور کے ہندوؤں کو کیوں قتل نہیں کیا گیا؟ جب کہ یہ بہت آسان کام تھا۔ انہوں نے بتایاکہ ٹیپو سلطان اپنی حکومت کی توسیع کے لئے ہندوؤں کی طرح مسلمانوں پر بھی حملہ کئےہیں، مراٹھا نے شرنگیری پر جوحملہ کیا تھا اس کا پس منظر سیاسی تھا نہ کہ ہندو مخالف۔ حکمرانوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کو فرقہ پرست سب سے بڑے روادار ٹیپو کو متعصب کہنے سے ان کی ذہنیت کا اندازا ہوتاہے۔ مولانا نے کہاکہ عدالتیں بھی فرقہ پرستانہ رویہ اختیار کریں تو ملک کی کیا حالت ہوگی غورکرنےکی بات ہے۔ ٹیپو سلطان کا بھٹکل سے گہرا تعلق تھا، ان کے خاندان کا ایک گھر آج بھی بھٹکل میں ہے۔ ان کے دور حکومت میں تعمیر شدہ مسجد آج بھی سلطانیہ مسجد کے نام سے آباد ہے۔ حضرت ٹیپو سلطان ایک مذہبی حکمران ہوتے ہوئے تمام سے پیار و محبت ، سماجی انصاف پر عمل کرنے والے حکمران ہونے کی بات کہی۔ سوسائٹی کے سنئیر نائب صدر ڈاکٹر ایم ٹی حسن باپا اور پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے ادارے کے نائب صدر سید اشرف برماور نے بھی ٹیپو سلطان کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ شمس انگلش میڈیم اسکول کے صدر مدرس ایم آر مانوی نے استقبال کرتے ہوئے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔ سکریٹری محمد طلحہ سدی باپا نے شکریہ اداکیا۔ مولانا عبدالسبحان ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔ ڈائس پر مولانا عزیز الرحمن رکن الدین ندوی ، مولانا سید زبیر، مولانا سید یاسر ندوی برماور موجود تھے۔